اقتباسات و حکمتیں

#01

استقامت کیا ہے

انسان جب ہر حال میں عمل کریں خواہ دل چاہے یا نہ چاہے تو اسی کا نام استقامت ہے جو کہ بہت بڑی دولت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

استقامت صفحہ 23

#02

ذکراللہ کی خاصیت

اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو نرم و روشن اور اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ بندے کے دل کو بری عادتوں اور برے اخلاق سے پاک کر دیتا ہے اور اچھے اخلاق و جذبات سے دل کو سنوارتا ہے ، ذکر کے نور سے ذاکر کو اللہ تعالی کے ساتھ ایک خاص نسبت و تعلق پیدا ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ اللہ عزوجل کی رضا و خوشنودی اور اس کے قرب کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو نرم و روشن اور اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ بندے کے دل کو بری عادتوں اور برے اخلاق سے پاک کر دیتا ہے اور اچھے اخلاق و جذبات سے دل کو سنوارتا ہے ، ذکر کے نور سے ذاکر کو اللہ تعالی کے ساتھ ایک خاص نسبت و تعلق پیدا ہو جاتا ہے جس کے بعد وہ اللہ عزوجل کی رضا و خوشنودی اور اس کے قرب کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل ومسائل ص49

#03

طاغوتی نظر وفکر

قرآن مجید کوکھول کر غور سے دیکھیں تو ہمیشہ کفر ونفاق کا نظریہ اورسوچ یہ رہی ہے کہ جو طریقہ آباؤ اجداد سے چلا آرہا ہے خواہ وہ کتناہی غلط کیوں نہ ہواس پر چلنا چاہے نیز یہ کہ دین ومذہب کا تعلق صرف پوجا اور پرستش کی حد تک ہے باقی زندگی کے تمام معاملات و معاشرت وغیرہ اس سے خارج ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسلام اور آج کا مسلمان،ص5

#04

اسلام کے لیے زیادہ مضر کون؟

ایسے لوگ جو اسلام کے ساتھ دنیاوی مفاد کی حد تک اپنا رشتہ جوڑ دیتے ہیں وہ تو دنیا پرست اور منافق ہوتے ہیں جو دوسرے غیر مسلموں سے زیادہ اسلام کے لیے خطرناک ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ 25 26

#05

انسان کی نادانی

جب انسان کے لیے اللہ تعالی اسباب کو مہیا فرماتے ہیں تب وہ اسباب کو پکڑ لیتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالی کو بھول جاتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

درس قران 6اگست2025

#06

عالم الغیب کون!

عالم الغیب تو وہ ہوتا ہے جس کا "علم" ہر واسطہ ،وسیلہ، سبب ،آلات اور دلیل وغیرہ سے بے نیاز ہو اور ایسا علم صرف اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے .

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 27

#07

ترقی طلب سے ہی ملتی ہے

جب طلب ہو گی ترقی ہوگی ۔ پھر طلب جتنی شدید ہو گی ترقی بھی اتنی ہی شدید ہو گی لیکن جب تم قانع ہو جاؤ گے تو تمہاری ترقی رک جائے گی، بلکہ ترقی ہی نہیں رکے گی ساتھ تنزل بھی شروع ہو جائے گا۔ یہ نہ سوچیں کہ میں وہی اپنی سابقہ حالت پر ہی رہوں گا۔ کیوں دنیا میں یہی دو چیزیں ہیں یا اوپر جاؤ گے یا نیچے آؤ گے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس،ص64

#08

اللّه کی رحمت سے مایوسی نہیں

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی گناہ سے پورے صدق ل اور خلوص کے ساتھ توبہ کرتے ہیں اور آئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پختہ عزم بھی کرتے ہیں، لیکن پھر ان سے وہی گناہ صادر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ پھر سے صدق و خلوص کے ساتھ تو بہ کرنی چاہیے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول صفحہ نمبر 120

#09

اللہ تعالی "وحدہ لا شریک"ہے!

اللہ جل شانہ کی وحدانیت کا مسئلہ ایسا ہے کہ جس کے بارے میں بے شمار قومیں گمراہ ہوئی ہیں اس لیے دنیا میں جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان سب کی دعوت کا اغاز عقیدہ توحید ہی سے ہوتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 5

#10

ہدایت کس کو ملتی ہے!

جس کے اندر بھی حق اور ہدایت کی طلب ہوگی تو اس کے لئےکبھی ہدایت کا راستہ بند نہیں ہوگا ۔ جبکہ بے طلبوں کو ہدایت نہیں ملے گی ، اسی وجہ سے بڑے بڑے انبیاء کرام علیہم السلام کے رشتہ داروں کو ہدایت نہیں ملی کیوں کہ ان لوگوں میں طلب نہیں تھی اور ہدایت کے لیے طلب شرط ہے، بغیر طلب کے قطعاً بھی ہدایت نہیں ملتی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس،ص61

#11

ذکراللہ قوت ایمانی کاسبب!

انسان کی اصل قوت دل کی قوت ہے اور دل کی قوت ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور ذکر اللہ کی کثرت ایمان کو تروتازہ رکھتی ہے اور اس کے نور کو بڑھاتی رہتی ہے، اس لیے ذکر الہی صبر واستقامت اور ثابت قدمی کا بہت بڑا ذریعہ ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص47

#12

بندگی کس چیز کا نام ہے؟

بندگی اس چیز کا نام ہے کہ کسی کے سامنے انتہائی محبت و عاجزی کا اظہار کیا جائے اور دل و جان سے اس کی اطاعت کو اختیار کیا جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسلام اور آج کا مسلمان ص3

#13

حکیم ترمذی کا فرمان

فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر دل کو تر کرتا ہے اور نرمی پیدا کرتا ہے اور جب دل اللہ کے ذکر سے خالی ہوتا ہے تو نفس کی گرمی اور شہوت کی آگ سے خشک ہو کر سخت ہو جاتا ہے اور سارے اعضاء سخت ہو جاتے ہیں، طاعت سے رک جاتے ہیں، اگر ان اعضاء کو کھینچو تو ٹوٹ جائیں گے جیسے کہ خشک لکڑی کہ جھکانے سے نہیں جھکتی صرف کاٹ کر جلا دینے کے کام کی رہ جاتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص59

#14

صادق کون ہوتا ہے!

صادق وہ ہوتا ہے جس کی زندگی قول اور فعل کے تضاد سے خالی ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص43

#15

یادالہی ہر حال میں مطلوب ہے!

اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی یاد ہر حال میں مطلوب ہے اور آیات قرآنیہ میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اُولُو الْأَلْبَابِ کی خاص صفت یہی ہے کہ وہ اللہ تعالی کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوتے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص41

#16

اسلامی تعلیما ت کا اثر

جب کسی معاشرے میں اللہ تعالی کی تعلیمات کو پوری طرح رائج اور نافذ کیا جاتا ہے تو اس معاشرے میں نہ صرف انسانوں کی جان و مال، عزت و آبرو محفوظ ہو جاتی ہے بلکہ اس معاشرے کے افراد میں باہمی الفت و محبت اور رحم و کرم کے ایسے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں کہ معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے کا بھائی اور سچا خیرخواہ بن جاتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسلام اور آج کا مسلمان ص1

#17

ترکِ اسباب کو توکل کہنا جہالت اور کم ہمتی ہے

قول زریں : ترکِ اسباب کو توکل کہنا جہالت اور کم ہمتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول صفحہ نمبر 458

#18

صابر کون ہوتا ہے!

جو بندہ ہر خوف ، ہر طمع ولالچ کے مقابلے میں خواہ وہ خود اس کے اندر کی اپنی خواہشات نفس ہوں یا خارجی دشمن ہو حق پر ڈٹا ر ہے اور اپنے رب سے راضی اور مطمئن رہے اور صبر و استقامت کے ساتھ تمام دین اسلام پر قائم رہے اسے صابر کہتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل اور مسائل،ص43

#19

کثرت ذکر۔۔۔۔۔!

ذکر الہی ہی تعلق مع اللہ کا محافظ ہے اور اس کے سبب یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہو تا رہتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل،ص46

#20

دل دنیا سے آزاد ہو، آخرت دل میں آباد ہو

جب دنیا کی محبت کا جادو ہمارے دل سے ہٹ جائے گا تب ہم دل کی آنکھ سے آخرت کا حسن دیکھ سکیں گے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 163

#21

جذبات کی سمت کو درست رکھیں!

جن جذبات کو غلط طریقہ سے ابھار کر شیطان ہم میں نفرت و کدورت پیدا کرتا ہے انہی جذبات کو اگر صحیح نصب العین کے حاصل کرنے میں صرف کیا جائے تو وہی سارے مسلمان" رحماءبینہم" کا منظر پیش کر سکتے ہیں.

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت3

#22

قوت انسانی!

انسان اپنے بیرونی و اندرونی حواس اور عقل کے ذریعے وہ علوم حاصل کرتا ہے جن کو دیکھ کر حضرات ملائکہ بھی اس کی علمی استعداد ا اور تبحر علمی کے معترف ہو جاتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 11

#23

یادِ الٰہی کی برکت

دوام ذکر کی بدولت اپنے نفس کو بھولنے سے امن نصیب ہوتا ہے جو سبب ہے دارین کی شقاوت کا، اس لیے کہ اللہ کی یاد کو بھلا دینا سبب ہوتا ہے خود اپنے نفس کے بھلا دینے کا اور اپنے تمام مصالح کے بھلا دینے کا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل و مسائل، ص71

#24

ذکرِ الٰہی: معیتِ الٰہی کا ذریعہ

اللہ کے نزدیک پرہیزگار لوگوں میں زیادہ معزز وہ لوگ ہیں جو ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے ہوں، اس لیے کہ تقویٰ کا منتہا جنت ہے اور ذکر کا منتہا اللہ کی معیت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل و مسائل، ص: 73

#25

اختلاف کو مخالفت نہ بنائیں!

باوجود فروعی مسائل میں اختلاف کے ہمارے اسلاف کرام کا ایک دوسرے کی عزت و اکرام کرنا اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے.

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت3

#26

قرآنِ مجید کی اشاعت کا نبوی حکم

قرآن مجید کی اشاعت کرو یعنی تقریر سے، تحریر سے، ترغیب سے، عملی شرکت سے جس طرح ہو سکے اس کی اشاعت جتنی ہو سکے کرو۔ نبی کریم ﷺ کلامِ پاک کی اشاعت اور اس کے پھیلانے کا حکم فرماتے ہیں، لیکن ہمارے روشن دماغ اس کے پڑھنے کو فضول بتلاتے ہیں اور ساتھ ہی حب رسول ﷺ اور حبِ اسلام کے لمبے چوڑے دعوے بھی ہاتھ سے نہیں جاتے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل، صفحہ 109

#27

صلاحیتوں کی تباہ کاری

اللہ تعالیٰ سے ناامیدی انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو تباہ کر ڈالتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو زندگی اور قوت بخشتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 139

#28

اجتماعی غفلت ،قومی ہلاکت

قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے قوموں کی مجموعی حیثیت کے مطابق ہوتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ نمبر 85

#29

ذکرقلبی کیاہے

ذکر قلبی یہ ہے کہ دل ہر وقت اللہ کے ساتھ وابستہ ہو جائے اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ حالت ساری عبادتوں سے افضل ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص55

#30

ذکر الہی ہی نور کا سرچشمہ ہے

ذکر کے نور اور تجلیات سے شبہات اور بے یقینی کے اندھیرے بھاگ جاتے ہیں۔ یہ روح کی غذا ہے، اس سے روح کو تقویت ملتی ہے اور اس سے انسان کے اندر نیکی کی پوشیدہ صلاحیتیں نشو و نما پاتی ہیں ۔ اس کی وجہ سے بندے کو قلبی اطمینان اور سکون کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ ذکر اس کے دل کو گھبراہٹ اور اضطراب سے بچالیتا ہے۔ اس کے اندر عزم و حوصلہ اور ہمت کو بڑھا دیتا ہے، یہی وہ چیز ہے جو نماز ، جہاد ، روزہ، حج ، زکوٰۃ اور اور ادوغیرہ تمام عبادات اور تمام دینی اعمال کی روح ہے ، یہ نہ ہو تو عبادت جسدِ بے روح بن جاتی ہے اور یہی ذکر وہ قوت ہے جو انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ جنتوں پر پہنچادیتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کےفضائل ومسائل ص50

#31

دوام عمل کی برکت

دوام عمل سے انسان کے اندر استقامت پیدا ہوتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

استقامت صفحہ 23

#32

قلب بھی, زنگ آلود ہوجاتا ہے

قلب کا زنگ یہ ہےکہ وہ اللہ سےاور آخرت کےانجام سے غافل اور بے فکر ہو جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص104

#33

دلوں کا زنگ کیسے دور ہو؟

قرآن مجید کی عظمت اور اللہ تعالی کے ساتھ اس کی خاص الخاص نسبت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادب اور اخلاص کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے، اگر یہ تلاوت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شوق اور تدبر کے ساتھ ہو گی تو ان شاء اللہ قلب کے زنگ کو دور کر کے اس کو نور سے بھر دے گی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص104

#34

اسم ذات قلوب کے منور ہونے کا ذریعہ ہے

اسم ذات" اللہ اللہ" کا ذکر روحانی ترقی اور نور ایمان میں ترقی کے لیے بہت مفید ہے۔ جو بندہ اخلاص و محبت کے ساتھ اس پاک نام کی رٹ لگاتا ہے تو اس کی برکت سے قلب اور روح منور ہو جاتا ہے اور ذکر دل کی گہرائیوں میں رچ بس جاتا ہے اور دل یاد الہی سے معمور ہو جاتا ہے اور بندے کی سرگوشیاں اور دلی مناجات اپنے رب کے ساتھ ہمہ وقت جاری ہو جاتی ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص94

#35

عملی زندگی کو درست کرنے کا نسخہ اکسیر

بعض مشائخ طریقت کا ارشاد ہے کہ جس طرح شرک جلی و خفی اور قلب و نفس کی دوسری کدورتیں دور کرنے اور ایمان و معرفت کانور حاصل کرنے میں کلمہ لا إِلهَ إِلَّا الله خاص اثر کرتا ہے ، اسی طرح عملی زندگی درست کرنے یعنی معصیات اور منکرات سے بچنے اور نیکی کی راہ پر چلنے میں یہ کلمہ لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ خاص اثر رکھتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص91

#36

باطن کی پاکیزگی کا موثر عمل

باطن کی تطہیر اور قلب کو ہر طرف سے موڑ کے اللہ تعالی سے وابستہ کرنے میں سب سے زیادہ موثر اسی کلمہ لا الہ الا اللہ کا ذکر ہوتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص87

#37

ہماری بے حسی اور اس کا نتیجہ

ناحق کی حمایت آج کل ہماری طبیعت بن گئی ہے۔ ایک چیز کو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں، مگر رشتہ داروں کی طرف داری ہے ، پارٹی کا سوال ہے، لاکھ اللہ کے غصہ میں داخل ہوں اللہ کی ناراضگی ہو ، اس کا عتاب ہو ، مگر کنبہ ، برادری کی بات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، ہم اس ناحق کرنے والے کو ٹوک نہ سکیں اور سکوت کریں یہ بھی نہیں، بلکہ ہر طرح سے اس کی حمایت کریں گے، اگر اس پر کوئی دوسرا مطالبہ کرنے والا کھڑا ہو تو اس کا مقابلہ کریں گے، کسی دوست نے چوری کی ، ظلم کیا، عیاشی کی، اس کے حوصلے بلند کریں گے، اس کی ہر طرح مدد کریں گے، کیا یہی ہے ہمارے ایمان کا مقتضی، یہی ہے دین داری، اس پر اسلام کے ساتھ ہم فخر کرتے ہیں، یا اپنے اسلام کو دوسروں کی نگاہ میں بھی بد نام کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں خود بھی ذلیل ہوتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص85

#38

روز قیامت ہر چیز کا مطالبہ ہوگا

قیامت میں جہاں نیکیاں اور برائیاں تو لی جائیں گی، وہاں اس چیز کا بھی مطالبہ اور محاسبہ ہو گا کہ اللہ جل جلالہ نے جو نعمتیں عطا فرمائی تھیں ان کا کیا حق ادا کیا؟ اور کیا شکر ادا کیا؟ بندے کے پاس ہر چیز اللہ ہی کی عطا کی ہوئی ہے، ہر چیز کا ایک حق ہے، اس حق کی ادائیگی کا مطالبہ ہونا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص82

#39

اعمال کی روح

جس عمل میں اخلاص کی روح موجود نہ ہو تو ایسے بے جان اعمال اور بڑے بڑے کام معاشرے میں بھی اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن جاتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 182

#40

تصوف کیا ہے؟

تصوف و طریقت دین اسلام کے اس شعبہ کا نام ہے جس کو قرآن مجید کی اصطلاح میں ”تزکیہ“ اور حدیث کی اصطلاح میں ”احسان“ کہا جاتا ہے ۔ یہ انہی لوگوں سے سیکھا جاتا ہے جو متقی اور پرہیزگار ہوں، جن کے دل رذائل سے پاک اور اخلاقِ حسنہ سے آراستہ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس راہ کے پیچ و خم اور انسانی نفسیات سے بھی ایک حد تک واقفیت رکھتے ہوں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 86

#41

کامیابی کن کا مقدر ہے؟

مکمل فلاح اور نجات پانے والے لوگ وہی ہیں جو ہر حالت میں اپنی تمام ذاتی اغراض و مفادات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہو اور وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حدود کی پوری پوری پاسداری کریں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 143

#42

غلط راستہ، نیک مقصد کی تباہی

نفاذ اسلام کے لیے غلط راستوں کا انتخاب الٹا نقصان کرتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ نمبر 9

#43

قابل غور

دینی خدمات انجام دینے والوں کو زیادہ ریاضت کی ضرورت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ نمبر 241

#44

کلمہ اسلام ایک عہدوپیمان ہے!

کلمہ طیبہ ایک عہد و پیمان اور ایک سودا ہے۔ اس میں انسان کامل طور پر اپنے مال و جان کو اللہ تعالٰی اور اس کے قانون کے حوالے کرتا ہے۔ وہ اپنی کمائی اور اپنے اعضا میں آزاد نہیں ہو تا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کے اندر رہ کر کمائی کرتا ہے اور پھر اپنی کمائی اور اعضا آنکھ ، کان وغیرہ کو اللہ تعالی کے حکم کے مطابق استعمال کرتا ہے اور اپنی پوری قوت اور اپنے پورے زور کے ساتھ اپنی مالی اور اپنی جانی توانائیوں کو اللہ تعالی کی راہ یعنی دین اسلام کے قیام و نفاذ کی راہ میں لگائے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کمائی اور اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر اللہ تعالی کے سامنے پیش کر کے کفر اور باطل کے خلاف پوری قوت سے جنگ کرے گا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

کتاب العقائد،ص5

#45

صحابہ کرام کا ,سب سے بڑاہتھیار

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سب سے بڑا ہتھیار نماز، تسبیح و تہلیل، تکبیر وغیرہ اور اذکار کی کثرت تھا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل ومسائل ص47

#46

اچھے اخلاق بھی دین کا لازمی حصہ ہیں

مسلمانوں میں دینداروں کی اکثریت کا بھی یہ حال ہے کہ عبادات ( روزہ نماز وغیرہ) کی اہمیت تو کسی درجہ میں محسوس کرتے ہیں مگر اخلاق، معاملات اور معاشرت کے متعلق شریعت کے جو احکام ہیں ان کی اہمیت کو محسوس نہیں کرتے ۔ ان میں بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اخلاق ، صفائی معاملات اور معاشرت کے بارے میں انے والے احکامات کی پابندی صرف بزرگ اور کامل بننے کے لیے ضروری ہے جبکہ نجات کے لیے تو صرف عبادات یعنی نماز روزہ وغیرہ کافی ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ دوزخ اور اللہ تعالی کے عذاب سے بچنے کے لیے جس طرح نماز روزہ ضروری ہے اسی طرح برے اخلاق سے بچنا اور اچھے اخلاق کا اپنانا بھی ضروری ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات، جلد اول ، صفحہ نمبر 7

#47

ذکرِ الٰہی انسان کو بے نیاز اور باعزت بنا دیتا ہے

آدمی کے دل میں ایک گوشہ ہے جو اللہ کے ذکر کے علاوہ کسی چیز سے بھی پر نہیں ہوتا اور جب ذکر دل پر مسلط ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف اس گوشہ کو پر کرتا ہے، بلکہ ذکر کرنے والے کو بغیر مال کے غنی کر دیتا ہے اور بغیر کنبہ اور جماعت کے لوگوں کے دلوں میں عزت والا بنادیتا ہے اور بغیر سلطنت کے بادشاہ بنا دیتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل و مسائل، ص: 72

#48

دنیا میں تکالیف کی حکمت

اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے کم عقل ! کسی مصیبت کی وجہ سے جس میں تجھ کو حق تعالی مبتلا فرمائے اس کے دروازہ سے مت بھاگ ، کیونکہ وہ تیری مصلحت و بہبودی کا تجھ سے زیادہ واقف ہے، تجھ کو جو مبتلا فرماتا ہے تو کسی فائدہ اور حکمت ہی کے لیے فرماتا ہے۔ جب وہ تجھ کو مبتلا فرمائے تو جمارہ اور اپنے گناہوں کی طرف توجہ کر ( کہ یہ ان کی پاداش ہے اور استغفار و تو بہ زیادہ کر) اور اس پر صبر و سکون کی اس سے درخواست کر اور اس کے سامنے (دست بستہ) کھڑا ہو جا اور اس کی رحمت کے دامن سے لٹک جا اور اس سے دعا مانگ)

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس، ص 213

#49

تقوی کیا ہے؟

ایک بزرگ سے روایت ہے کہ حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دل کے اندر ہے اگر تو اس کو جمع کر کے ایک کھلے ہوئے طباق میں رکھ دے اور اس کو لے کر بازار کا گشت لگائے تو اس میں ایک چیز بھی ایسی نہ ہو جس کو اس طرح عالم کو آشکار کرنے پر شرم آئے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس، ص 214

#50

متبع شریعت شیخ کی صحبت کا اثر

اگر تو فلاح چاہتا ہے تو ایسے شخص کی صحبت اختیار کر جو حق تعالیٰ کے حکم (یعنی شریعت) اور علم (یعنی طریقت) کا عالم ہو کہ وہ تجھ کو علم سکھائے اور مؤدب بنائے اور تجھ کو حق تعالیٰ کے راستہ سے واقف کرے، مرید کو دستگیر اور راہبر کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ وہ ایسے جنگل میں ہے جس میں سانپ بچھو اور طرح طرح کی آفتیں، پیاس اور مہلک درندے ہیں۔ بس راہبر اس کو ان آفتوں سے بچاتا اور اس کو پانی اور پھل دار درختوں کی جگہ بتاتا رہے گا اور جب تنہا بغیر رہبر کے ہو گا تو درندوں والی پتھریلی زمین میں جا پڑے گا جہاں کثرت سے درندے اور سانپ بچھو اور آفتیں ہوں گی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

فیوض یزدانی: ۲۴۴

#51

مومن کا حال

مؤمن دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے پس زہد سے باطن کا میل کچیل اور غبار زائل کر دیتا ہے تب آخرت آتی ہے پس اس کا دل ٹھہر جاتا ہے۔ اس کے بعد دست عزت آتا ہے ، پس آخرت (کے خیال ) کو اس کے قلب سے زائل کر دیتا ہے اور اس کو جتا دیتا ہے کہ یہ بھی حق تعالیٰ سے حجاب ہے (کیونکہ حق تعالیٰ کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس قلب میں آئے جس میں اس کے سوا کوئی دوسرا موجود ہے ) پس اس وقت وہ تمامی مخلوقات سے دل بستگی چھوڑ بیٹھتا ہے اور شریعت کے احکامات کی تعمیل کرتا اور اس کی حدود کو جو اس کے اور عام آدمیوں کے در میان مشترک ہیں محفوظ رکھتا ہے، اس کی چشم بصیرت کھل سکتی ہے۔ پس وہ اپنے نفس کے عیوب اور مخلوقات کے عیوب سے آگاہ ہو جاتا ہے اس لیے وہ اپنے پروردگار کے سوا نہ کسی سے دل لگاتا ہے اور نہ کسی کی بات پر کان دھر تا ہے اور نہ کسی کی سمجھتا ہے اور نہ اس کے سوا دوسروں کے وعدوں پر مطمئن ہوتا ہے اور نہ دوسروں کی دھمکیوں سے ڈرتا ہے ، دوسروں کے ساتھ مشغولیت بالکل ترک کر دیتا اور اس کا شغل رہنے دیتا ہے۔ پس جب یہ حال کامل ہو جائے تو وہ اس (بے مثل لذت) میں ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے دل پر ان کا خیال گذرا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس، ص 214

#52

جھوٹی محبت کے دعوے دار کی حالت

اے کذاب! تو نعمت کی حالت میں خدا کو محبوب سمجھتا ہے، لیکن جب بلا آتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے، گویا کہ اللہ عزوجل تیرا محبوب تھا ہی نہیں، بندہ تو آزمائش کے وقت ہی ظاہر ہوتا ہے۔ پس جب اللہ کی طرف سے بلائیں آویں اور تو جما رہے تو بےشک تو محب ہے اور اگر تیری حالت میں تغیر آجائے تو جھوٹ کھل گیا اور پہلا دعویٰ محبت کا ٹوٹ گیا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 8

#53

لایعنی اور جھوٹ سے بچنے کا اہتمام ضروری؟

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں: حضرت نظام الدین اولیاء قدس سرہ کی خدمت میں دو صاحب بیعت کے لیے حاضر ہوئے، مسجد کے حوض پر آ کر وضو کے لیے بیٹھے تو آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے یہاں کا حوض یہاں کے حوض سے بہت بڑا ہے ، اتفاقاً حضرت شیخ نے یہ کلام سن لیا۔ جب وہ حاضر خدمت ہوئے اور بیعت کے لیے عرض کیا تو شیخ نے سوال کیا کہ آپ کے یہاں کا حوض یہاں کے حوض سے کتنا بڑا ہے؟ اس نے عرض کیا یہ تو معلوم نہیں، فرمایا کہ جاؤ پیمائش کر کے آؤ، اس کو جانا پڑا اور سفر طے کر کے وطن پہنچا، حوض کی پیمائش کی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک بالشتہ بڑا ہے۔ واپس آیا اور عرض کیا کہ حضرت میں نے پیمائش کرلی ہے وہ حوض ایک بالشت بڑا ہے، پھر حضرت شیخ نے فرمایا کہ تم نے تو بہت بڑا کہا تھا ایک بالشت تو بہت بڑا نہیں ہوتا، تمہارے اس عمل سے معلوم ہوا کہ تمہارے مزاج میں جھوٹ سچ کے معاملہ میں احتیاط نہیں تو اس طریق میں کیا چل سکو گے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 10

#54

معاملات میں احتیاط کی تعلیم

ایک شخص نے خط لکھا کہ میں فلاں بزرگ سے بیعت ہوں مگر میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن بزرگ سے تم بیعت ہوئے ان سے تمہاری بے تکلفی زیادہ ہے اس لیے تمہیں ان سے نفع نہیں ہوگا، تم مولانا اشرف علی صاحب سے اپنی تربیت حاصل کرو۔ حضرت حکیم الامت نے جواب میں لکھا کہ اپنے موجودہ شیخ سے یہ لکھوا کر بھیجو کہ یہ آدمی معتبر ہے، اس کی روایت قابلِ اعتبار ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ بہت سے لوگ بزرگوں کے نزدیک تقرّب حاصل کرنے کے لیے غلط سلط روایات بیان کر دیا کرتے ہیں جو ان کے لیے موجبِ فتنہ اور دوسروں کے لیے موجبِ رنجش ہوتا ہے۔ حضرت (رحمہ اللہ) نے اس طرزِ عمل سے سب خرابیوں کی جڑ کاٹ دی اور سابق شیخ کے قلب کو مکدّر کرنے سے بھی بچا لیا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 10/11

#55

علم کا مغز عمل ہے

صاحبزادہ! تیرا علم تجھے پکار رہا ہے کہ میں تجھ پر حجّت ہوں اگر تو نے مجھ پر عمل نہ کیا۔ (کہ بے عملی کا مجرم بنانے کو سرکاری گواہ کا کام دوں گا) جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ "علم پکارا کرتا ہے عمل کو، پس اگر عمل آجاتا ہے تو علم ٹھہرتا ہے ورنہ چلا جاتا ہے۔" علم کے چلے جانے سے مراد یہ ہے کہ اس کی برکت چلی جاتی ہے اور محنت ہی محنت رہ جاتی ہے، اپنے مولیٰ سے اس کا سفارش کرنا رخصت ہو جاتا ہے اور تیری حاجتوں کے وقت اس کا تیرے پاس آنا بند ہو جاتا ہے، علم رخصت ہو جاتا ہے اس لیے کہ پوست ہی پوست رہ گیا کیوں کہ علم کا مغز عمل ہے، تیری متابعت جناب رسول اللہ ﷺ کے لیے صحیح نہیں جب تک کہ اس شریعت پر عمل نہ کرے جس کا آپ ﷺ نے تجھ کو حکم دیا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 9

#56

انبیاء کے وارث کون سے علماء ہیں؟

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ "بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔" پس جس علم کے ساتھ خشیت یعنی خوفِ خدا نہ ہو وہ علم نہیں اور نہ ایسا شخص عالمِ حقانی ہے۔ پس علامت عالم کی خوفِ خدا ہے اور خوفِ خدا کی علامت اتباعِ شریعت ہے۔ اگر اتباعِ شریعت نہیں ہے تو سمجھ لو کہ خوفِ خدا بھی نہیں اور جس علم کے ساتھ دنیا کی رغبت ہو اور دنیا داروں کی خوشامد ہو اور دنیا کمانے ہی میں توجہ ہو اور تكبر اور بڑی بڑی تمنائیں اور آرزوئیں ہوں اور آخرت سے غفلت ہو، ایسا علم علم نہیں اور ایسا عالم انبیاء کے وارثوں میں شمار نہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 12

#57

اللہ کے خوف اور استحضار کے برکات

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: صاحبزادہ! اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے سامنے کوئی دروازہ بھی بند نہ رہے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ، بس یہ دروازہ کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے نکلنے کے لیے راستہ کر دیتا ہے اور اس کو رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔“ تو خالق کے ساتھ رہے تب تو اس کا بندہ ہے اور اگر تو مخلوق کے ساتھ رہے تب تو ان کا بندہ ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 15

#58

محروم انسان

صاحبزادہ! کاہل مت بن، کیونکہ کاہل ہمیشہ محروم رہتا ہے اور پشیمانی کی رسی اس کی گردن میں ہوتی ہے، اپنے اعمال کو عمدہ بنا کہ حق تعالیٰ تجھ پر دنیا و آخرت کی سخاوت فرمائے گا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 15

#59

استحضار اور اس پر ملنے والا انعام

اللہ عزوجل کی یاد اہل عرفان کے دلوں میں خیمہ لگاتی اور ان کو گھیر لیتی اور ہر مذکور کی یاد ان کو بھلا دیتی ہے۔ پس جب یہ حالت کامل ہو جاتی ہے تو اب جنت ان کا ٹھکانا ہے، ایک جنت نقد انقد اور دوسری جنت وہ جس کا وعدہ ہے، نقد انقد جو دنیا میں ملتی ہے وہ تو رضا بر قضا اور قلب کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ راز و نیاز اور اس کے اور خدا کے درمیان سے پردہ کا اٹھ جانا ہے کہ ایسے قلب والا شخص اپنی خلوت میں ہر حالت کے اندر حق تعالیٰ کے ساتھ ہے بلا کیفیت اور بلا تشبیہ کے کہ اس کی مثل کوئی شے نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے (پس اس معیت کی کوئی کیفیت کیا بیان کرے) کوئی شبہ نہیں کہ خیر و خوبی ہر قسم کی اللہ کی طرف سے ہے اور برائی و شر دوسروں کی طرف سے ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہونے میں خیر ہے اور اس سے روگردانی میں شر

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 15

#60

قوّتِ ایمانی

تو اپنے نفس کا انکار کرنے پر قادر ہوگا تو دوسروں پر بھی انکار کی قدرت رکھے گا (یعنی نافرمانوں کو خلافِ شرع امور سے روک سکے گا) اپنے ایمان کی قوت کے موافق تو خلافِ شرع باتوں کو مٹا سکتا ہے اور جتنا اس میں ضعیف ہوگا اسی قدر بزدل و مداہن بنے گا اور اپنے گھر میں گھس کر بیٹھے گا اور ان کے مٹانے سے گونگا بنے گا، ایمان ہی کے پاؤں ہیں جو انسان و جنات دونوں قسم کے شیطانوں کی جنگ کے وقت جم سکتے ہیں وہی ہیں جو بلاؤں اور آفتوں کے وقت ثابت قدم رہ سکتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 16

#61

نجات کا سہارا عدل نہیں، فضلِ الٰہی ہے

حق تعالیٰ کی صفتِ عدل و انصاف کا اگر عالم میں ظہور ہو اور ہمارے ساتھ انصاف و عدل کا معاملہ ہو تو ادنیٰ سے ادنیٰ گناہ بھی صغیرہ نہیں، بلکہ سب کے سب کبیرہ گناہ اور قابلِ گرفت اور مؤاخذہ کے ہیں اس لیے کہ ایسے بڑے جلیل القدر کی کہ جس کی جلالت و عظمت کی کوئی انتہا نہیں اور ایسے بڑے محسن کی جس کے احسانات بے شمار ہیں ادنیٰ نافرمانی بھی اس درجہ سخت ہے کہ ہلاک کر دینے کے لیے کافی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 18

#62

گناہ سے خود کو ناقابل معافی نہ سمجھ لینا

جب کوئی گناہ بشریت کی راہ سے تم سے ہو جائے تو اس گناہ کی وجہ سے دین پر پختگی اور قائم رہنے کی صفت اور اپنے رب کے ساتھ تعلق و امید کی خصلت میں ذرہ برابر فرق نہ آنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کے صادر ہونے سے تم یہ سمجھنے لگو کہ بس جی ہم کو دین پر پختگی کا میسر ہونا محال ہے اور یہ سمجھ کر اور گناہوں پر دلیر ہو جاؤ، حالانکہ یہ گمان تمہارا بالکل غلط ہے اس لیے کہ گناہ از راہِ بشریت صادر ہونا دین پر پختگی کے خلاف نہیں، ہاں گناہ پر اصرار کرنا اور توبہ نہ کرنا اور دوسری مرتبہ اس کے کرنے کا قصد کرنا پختگی کے خلاف ہے اور ممکن ہے کہ یہ گناہ جو تم سے صادر ہوا ہے اور جس کو تم غلطی سے استقامت کے خلاف سمجھ رہے ہو آخری گناہ ہو جو تمہاری تقدیر میں لکھا تھا اور اس کے بعد مالکِ حقیقی کی ایسی رحمت متوجہ ہو کہ پھر گناہ نہ ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 18

#63

خدا کی اطاعت میں مخلوق کی پروا نہ کر

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صاحبزادہ! اگر تو فراخیِ سینہ اور رضاِ قلب کا خواہشمند ہے تو مت سن جو مخلوق کہے اور توجہ بھی نہ کر ان کی باتوں کی طرف، کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ اپنے خالق ہی سے خوش نہیں ہیں پھر تجھ سے تو کس طرح خوش ہوں گے؟ کیا تو نہیں جانتا کہ ان میں سے اکثر نہ عقل رکھتے ہیں نہ بصارت نہ ایمان، بلکہ جھٹلاتے ہیں اور تصدیق نہیں کرتے، ان لوگوں کا تابع بن جو بجز حق تعالیٰ کے کچھ سمجھتے نہیں، اس کے غیر کی سنتے نہیں اور اس کے سوا کسی کو دیکھتے نہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 44

#64

تمام عبادات کا مقصود اصلی

بندہ کا کمال اور مرتبہ اور تمام عبادات کا اصلی مقصود یہ ہے کہ بندہ کی نظر ہر امر میں اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی ہو جیسے بھیک منگا سائل ہوتا ہے اور اپنا عمل اور فعل حتیٰ کہ اپنا وجود نظر سے بالکل اٹھ جاوے اللہ ہی پر اعتماد ہو، اسی کے ساتھ دل کو قرار ہو اسی کی طرف دل کا رخ ہو، اپنی تدبیر اور اسبابِ ظاہرہ سے بالکل بھروسہ اٹھ جاوے اور بندہ کی پستی اور ہلاکت اس میں ہے کہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو اور اپنے عمل کو پسند کرے اور اپنے فعل کو اچھا جانے اور اپنی قدر اس کے دل میں ہو ایسا بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود ہوتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 50

#65

دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے میں ہی فلاح دارین ہے

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: صاحبزادہ! آخرت کو دنیا پر مقدم سمجھ، دونوں میں نفع پائے گا اور جب تو دنیا کو آخرت پر مقدم کرے گا تو دونوں میں خسارہ اٹھائے گا اور یہ اس کی سزا ہوگی کہ جس کا تجھ کو حکم نہ تھا اس میں کیوں مشغول ہوا؟ اور جب دنیا کے ساتھ مشغول نہ ہوگا تو حق تعالیٰ اس پر اعانت فرما کر تیری مدد کرے گا اور تجھ کو دنیا لیتے وقت توفیق دے گا اور جب تو اس میں سے کچھ لے گا تو اس میں برکت عطا فرمائے گا، مؤمن شخص دنیا بھی کماتا ہے آخرت بھی مگر دنیا صرف اسی قدر جتنے کی اس کو حاجت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 68

#66

عالم باعمل اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے

جو شخص اپنے علم پر عمل کرے تو اس کے اور حق تعالیٰ کے درمیان ایک باب یعنی دروازہ کھل جاتا ہے جس سے اس کا قلب اس کی بارگاہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اے مولوی تو قیل و قال میں مشغول اور اپنے علم پر عمل کرنے کے بجائے مال کے جمع کرنے میں مصروف ہے، پس یقیناً تیرے ہاتھ علم کی صرف صورت آئے گی نہ معنی، جب حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو علم عطا فرماتا ہے اور اس کے بعد عمل اور اخلاص القا فرماتا ہے اور اپنے نزدیک کر لیتا، اپنا مقرب بنا لیتا، اپنی معرفت بخشتا اور قلوب و اسرار کا وہ علم اس کو نصیب فرما دیتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہوتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

منتخب مجالس صفحہ 68

#67

اللہ تعالی کا قرب کیسے ملے گا

اللہ تعالی کا قرب قربانی سے ملتا ہے، قربانی یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات کو قربان کر دے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 141

#68

اللہ سے محبت کا مفہوم

اللہ سے محبت کا مفہوم یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی محبت، اللہ کے احکامات ، اور اس کی شعائر یعنی اس کے نام سے لگی ہوئی چیزوں سے محبت ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس ص17

#69

اجرائے صفات میں کسی کو خود مختار ماننا

جس طرح اللہ تعالی کی مخصوص صفات میں کسی کو کسی درجہ میں شریک کرنا شرک ہے اسی طرح یہ بھی شرک ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کے اجرا اور نفاذ میں اللہ تعالی کے سوا کسی دوسرے کو صاحب اختیار مانا جائیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 29

#70

صادق کو ن ہے؟

صادق وہ ہے جس کی زندگی قول و فعل کے تضاد سے خالی ہو فرمان

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل و مسائل صفحہ 43

#71

رک جانا ہی گر جانا ہے

اگر کسی کو اپنا ظاہری یا باطنی گناہ نظر نہ بھی آرہا ہو تب بھی مسلمان کو چاہیے کہ وہ برابر توبہ واستغفار کرتا رہے، نیکی کے کسی مقام پر بھی قناعت نہ کرے ، ہر وقت اپنے آپ میں اور اپنی عبادت و فرمانبرداری میں کمی محسوس کرے اور اس پر توبہ و استغفار کرے، ادنی حالت سے اعلیٰ اور بہتر سے بہترین حالت کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول صفحہ نمبر 106

#72

جھوٹی امیدیں ہے

جب ایمان کی صحیح محنت ختم ہو جاتی ہے یا نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے تو لوگ جھوٹی امیدوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ بیک وقت دیندار بھی ہو جاتے ہیں اور دنیا دار بھی .

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ 54

#73

ذاکرین کے ساتھ اللہ کا معاملہ

میرا ذکر کرنے والے میرے آدمی ہیں، میں ان کو اپنی رحمت سے دور نہیں کرتا۔ اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے رہیں تو میں ان کا حبیب ہوں، اور اگر وہ توبہ نہ کریں تو میں ان کا طبیب ہوں کہ ان کو پریشانیوں میں مبتلا کرتا ہوں تاکہ ان کو گناہوں سے پاک کروا لوں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل و مسائل، ص: 73

#74

ذکر اللہ ہی محبوب تر اور افضل ہے

سارے اعمال صالحہ کے مقابلہ میں "ذکر اللہ “ افضل اور عند اللہ محبوب تر ہے وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ بندے کو اللہ تعالیٰ کا جو قرب اور اس کی وجہ سے جو سعادت اور شرف ذکر کے وقت حاصل ہوتا ہے وہ کسی دوسرے عمل کے وقت نہیں ہو تا، بشر طیکہ یہ ذکر عظمت اور محبت و خشیت اور دل کی توجہ کے ساتھ ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص57

#75

اہل قلم اور علمائے کرام کی ذمہ داری!

ہمارے اہل قلم خصوصا علمائے کرام جن پر امت کی اصلاح و تربیت کی ذمہ داری ہے ا اہل اسلام میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنا اور مومنین میں بھائی چارہ کو فروغ دینا ان کا فرض منصبی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ2

#76

قلب سلیم

اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت قلب سلیم کی ہے، قلب سلیم سے مراد صحیح اور پاک دل ہے جو شرک، نفاق، کبر، حسد اور بغض وغیرہ جیسے رذیل جذبات سے پاک اور نیک اخلاق سے آراستہ ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 21

#77

ذکر الہی کی تاثیر بڑھانے کے روحانی طریقے

ذکر کی کیفیت بڑھانے کے لیے فضائل ذکر سننے اور پڑھنے کا اہتمام کیجیے ، نیک لوگوں کی صحبت میں رہیے یا ذکر کثرت سے کیجیے اور اس میں دل کو بیدار رکھنے کی کوشش کریں ،تخلیق کائنات ،اسمان و زمین اور ان میں سمائی ہوئی چیزوں میں غور و فکر کرتے رہیں ۔اس کے علاوہ یادِ حق پیدا کرنے کی ایک اسان صورت یہ ہے کہ اپنے اپ کو کسی اہل دل عالم کے سپرد کیجئے وہ اس کے بارے میں قران و سنت کی روشنی میں جو نسخہ تجویز کرے اس پر عمل کیجئے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل و مسائل ، صفحہ نمبر 35

#78

ا انبیاء علیہ السلام کی تعلیم

اللہ تبارک و تعالی کی ہستی ایک ایسی ظاہری و بدیہی حقیقت ہے جس میں شک یا انکار کی کوئی گنجائش ہے ہی نہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 5

#79

دنیا پرست کون

ایسے لوگ جو اسلام کے ساتھ دنیوی مفاد کی حد تک اپنا رشتہ جوڑ دیتے ہیں وہ دنیا پرست اور منافق ہوتے ہیں جو دوسرے غیر مسلموں سے زیادہ اسلام کے لیے خطرناک ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ 26/25

#80

آج کا مسلمان

آج کل اکثر مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کے حوالے نہیں کیا ہے بلکہ جس حد تک وہ اسلام کی پیروی میں کوئی نقصان نہیں دیکھتے اس حد تک وہ مسلمان ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسلام اورآج کا مسلمان ص11

#81

یہ بھی دھوکہ ہے

اگر کسی کو اس غرض سے بلایا کہ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور پھر نہ دیا تو یہ بھی دھو کہ اور خیانت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

امانت،ص6

#82

سچے مومن کی علامت

سچا مومن ہر حال میں اللہ تعالٰی کے حکم کو مقدم رکھے گا چاہے گرمی ہو یا سردی،حالات موافق ہو یا مخالف

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

استقامت صفحہ 3

#83

اللہ کی محبت، زندگی کا سہارا

ہم اپنا مقصد و مطلب اللہ تعالی کو، اللہ تعالی کی محبت اور اس کی رضا کو بنا لیں ،تو پھر ہمارے لیے کوئی کام مشکل نہ ہوگا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 160

#84

لہجے کی شائستگی کے اثرات !

اگر نرم الفاظ اور شیریں سخنی سے دوسرے کے سامنے اپنا نظریہ پیش کیا جائے اور ٹھنڈے دل اور فراخ دلی سے ان کی بات پر کان دھرے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اپس میں بھائی بھائی کا نظارہ پیش نہ کریں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 2/3

#85

دنیاغالب اور آخرت مغلوب کیوں؟

جب اللہ تعالٰی اور آخرت پر ایمان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے تو دنیا کی محبت "فكر آخرت "پر غالب آجاتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ 20

#86

اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا

صرف اکثریت کی بنیاد پر کوئی قدم اٹھانا عقل وفطر ت کے بھی خلاف ہے اور اللہ تعالٰی کے واضح قانون كے بھی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ 28

#87

کثرت مدار نجات نہیں

اگر اللہ تعالٰی کےنذديك ذرہ برابر بھی اکثریت کی قدرہوتی تو حضرت نوح عليه السلام اور ان کے چند ساتھیوں کے مقابلے میں پوری قوم کو غرق نه فرماتے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ27

#88

دینی اور روحانی ترقی کا راز

معمولات پر پابندی کرنا، ترقی کا زینہ ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 28

#89

خشوع کب پیدا ہوتی ہے!

خشوع کا مفہوم عاجزی،فروتنی اور خاکساری ہے۔یہ چیز اللہ تعالی کی ہیبت اور اس کی عظمت وجلال کے صحیح تصور سے پیدا ہوتی ہے۔یہ صفت بندے کو اپنے رب اللہ عزوجل کے سامنے بھی جھکاتی ہے۔اور اس کے بندوں کے معاملہ میں بھی اس کو مہربان اور متواضع بناتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص41

#90

ہر غلبہ اور فتح فلاح کا ذریعہ نہیں

ہر غلبہ اور فتح فلا کا ذریعہ نہیں ہو سکتا بلکہ فلاح صرف اس غلبہ اور فتح سے حاصل ہوگی جس کی بنیاد ذکر الٰہی پر ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

#91

ذکر اللہ کیا ہے؟

وہ چیز جس کے ذریعہ اللہ تعالی کو یاد کیا جاتا ہے خواہ وہ الفاظ و اقوال ہو یا اعمال اور نقل و حرکت سب کے سب ذکر الہی میں داخل ہیں۔ فرمان

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل و مسائل صفحہ 36

#92

حقوق میں شرک!

حقوق میں شرک یہ ہے کہ خدا ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالی کے اپنے بندوں پر جو خاص حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں سے کوئی حق اللہ تعالی کے سوا کسی دوسرے کے لیے ماننا حقوق میں شرک کہلاتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 30

#93

سچے عاشق کا مذہب

جو سچا عاشق ہوگا وہ فرض، سنت اور مستحب کو نہیں دیکھے گا بلکہ وہ اللہ تعالی کی رضا کو تلاش کرے گا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 140

#94

اصلاحِ نفس ، دعوت کا پہلا زینہ

سچا داعی اور سچا مصلِح کبھی اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہوتا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرار العروج صفحہ نمبر 243

#95

شرک کیا ہے

اللہ تعالی کی ذات میں شرک یہ ہے کہ تخلیق کائنات اور اس کی تدبیر میں اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو بھی مانا جائے یا کسی مخلوق کو اللہ تعالی کی ذات میں شریک کر کے اسے اللہ تعالی کا جز قرار دیا جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ9

#96

حقیقی محبت کرنے والا کون؟

جو شخص اپنے رب سے محبت کرتا ہے، اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے تو یہی شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر سکتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر اگر اس کے راستے میں کوئی ظاہری دشمن کافر حائل ہو جائے تو اس کے ساتھ وہ قتال کرے گا، اگر کوئی ایسا کرے گا تو معلوم ہوا کہ اسے اللہ تعالی جل جلالہ کے ساتھ صحیح معنوں میں محبت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس ص17

#97

انسان پر"انعام خاص"

تمام کائنات میں صرف انسان ہی ایسا ہے جسے پیدائشی طور پر "قوت ارادی "کے ساتھ "علم کی استعداد و قوت "بھی دوسری مخلوقات سے زیادہ اور پورے کمال کے ساتھ دی گئی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ10

#98

بدگمانی کی حقیقت

بلا دلیل کسی کے متعلق غلط رائے قائم کرنا بدگمانی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 127

#99

اچھے اخلاق کتنے ضروری ہے؟

اخلاق کی اصلاح کامعاملہ کوئی ایسی چیزنہیں کہ صرف بزرگ اور کامل بننے کےلئےاس کی ضرورت ہو بلکہ حقیقت یہ ہےکہ مسلمان ہونے اور دوزخ سے بچنےکے لئے جس طرح نماز روزہ وغیرہ کی ضرورت ہےاسی طرح برے اخلاق کو چھوڑنا اور اچھے اخلاق کو اپنانابھی ضروری ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات ج1ص7

#100

بدگوئی کئی مہلک امراض کا سبب

بد گوئی پھوٹ پیدا کرتی ہے جو کہ شیطان کا کام ہے، اس کے ذریعہ شیطان لوگوں کے اندر غصہ، حسد، نفرت، اور نفاق کا بیج بو دیتا ہے۔بہر حال زبان کی حفاظت بہت ضروری ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس،ص43

#101

ہر علم علم الغیب نہیں!

جن چیزوں کا علم لوگوں کو بعض اسباب اور ذرائع سے عادتا حاصل ہو جاتا ہے غیب نہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدہ26

#102

تعظیم و عقیدت میں غلو

جب لوگ تعظیم و عقیدت میں اعتدال چھوڑ کر غلو اختیار کریں اور حد سے تجاوز کریں تو یہی سے شرک و گمراہی کا آغاز ہو جاتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ8/9

#103

امانت کیاہے!

ہر وہ ذمہ داری جو انسان پر لاگو ہوئی ہو، چاہے اس نے خود قبول کی ہو، دوسرے نے اس کے ذمے لگایا ہو یا اللہ پاک کی طرف سے اس پر لگائی گئی ہو۔ان سب کوادا کرنےکانام امانت ہےاور ان میں کمی کوتاہی کرنے کو خیانت کہتے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

امانت،ص3

#104

ذکر اللہ ہی محافظ ہے!

ذکرالہی تعلق مع اللہ کا محافظ ہے اوراس کے سبب یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہو تا رہتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص46

#105

فروعی مسائل میں ائمہ اہل سنت کا اسوه حسنه!

فروعی مسائل میں ائمہ اہل سنت کا اختلاف کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے مگر ان کا آپس میں ایک دوسرے سے نہایت بلند درجہ ادب و تعظیم سے پیش انا بھی اظہر من الشمس ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ3

#106

اللہ تعالی کے علم کی وسعت

اللہ تعالی ہر درخت کا ہر پتہ گرنے سے پہلے اور گرنے کے بعد بھی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے ہر درخت پر لگا ہوا پتہ کتنا مرتبہ الٹ پلٹ ہوگا کب اور کہاں گرے گا اسی طرح ہمیں ہمیشہ ہمیشہ ہر چیز کو اس کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی عین حیات میں اور اس کے مرنے کے بعد اپنے علم تفصیلی سے جانتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

عقیدہ اور عقیدت صفحہ 27

#107

ذکرِ الٰہی ہی تصوف کا اصل الاصول ہے

ذکر تصوف کا اصل اصول ہے اور تمام صوفیاء کے سب طریقوں میں رائج ہے۔ جس شخص کے لیے ذکر کا دروازہ کھل گیا ہے اس کے لیے اللہ جل شانہٗ تک پہنچنے کا دروازہ کھل گیا، اور جو اللہ جل شانہٗ تک پہنچ گیا وہ جو چاہتا ہے پاتا ہے، کیونکہ اللہ جل شانہٗ کے پاس کسی چیز کی بھی کمی نہیں ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکراللہ کے فضائل و مسائل، ص: 72

#108

عادت اللہ

اللہ تعالٰی نے ہمیشہ اپنے فعل اور فیصلوں سے ثابت کیا ہے کہ اس کے نزدیک قدروقیمت صرف ایمان و تقوی کی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ 27

#109

قنوت کسے کہتے ہیں!

قنوت اللہ تعالٰی کی اس بندگی اور اس کے رسول کی اس فرمانبرداری کی تعبیر ہے جو دل کی پوری یکسوئی، پوری نیاز مندی، کامل عاجزی اور پورے اخلاص کے ساتھ دائما(یعنی ہمیشہ ) ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص43

#110

بصیرت قلبی کی علامت

جب انسان کی دل کی انکھیں کھل جاتی ہے تو وہ ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

بیان 7 اگست2025 درس قران

#111

اللہ کی توجہ پانے کا شرف

ذکر کی فضیلت میں اگر کوئی اور ایت نہ ہو تو صرف یہی ایک ایت اس کی فضیلت کے لیے کافی ہے کہ ایک بندے کے لیے اس سے زیادہ فخر اور اس سے بڑا انعام اور کیا ہو سکتا ہے کہ معبود حقیقی اور محبوب حقیقی اور پوری کائنات کا خالق و مالک اور بادشاہ اس کو یاد کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو اور پھر اس کا یاد کرنا بھی صرف یاد کرنا نہیں بلکہ اس کا یاد کرنا اپنے انعامات،عنایات نصرت و عزتوں اور عظیم کامیاب کامیابیوں کا عطا کرنا بھی ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی یاد کی توفیق عنایت فرمائے آمین

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل و مسائل، صفحہ نمبر 40

#112

محبت الہی کا پیمانہ کیاہے؟

پیمانہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات سے محبت ہو، ان پر چلنا ہو، اور جو چیز اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو وہ ہمیں محبوب ہو اور جو اللہ تعالیٰ کو مبغوض ہو وہ ہمیں بھی مبغوض ہو۔ یہی اللہ تعالیٰ سے محبت ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس ص17

#113

سنت انبیاء

مثبت سوچ انسان کو انسان کا ہمدرد بناتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 7

#114

ترقی کا راز

جو قوم اور جو امت خواہ وہ کسی نسل سے ہو، اس کا کوئی بھی رنگ اور کوئی بھی زبان ہو، قرآن مجید کو اپنا راہنما بنا کر اپنے کو اس کا تابعدار بنادے گی اور اس کے ساتھ وہ تعلق رکھے گی جو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت میں سر بلند کرے گا۔ اور اس کے برعکس جو قوم اور امت اس سے انحراف اور سرکشی کرے گی وہ اگر بلندیوں کے آسمان پر بھی ہو گی تو نیچے گرادی جائے گی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص 112

#115

قنوت کیا ہے؟

اللہ تعالی کی اس بندگی اور اس کے رسول کی اس فرمانبرداری کی تعبیر ہے جو دل کی پوری یکسوئی پوری نیازمندی کامل عاجزی اور پورے اخلاص کے ساتھ دائماہو۔ فرمان

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل و مسائل سفر 43

#116

اسلامی تحريك اوردنیوی مفادات

جو تحريك بھی اسلام کےساتھ دنیوی مفاد ات کو وابستہ کر ے تو وہ صالح تحریک بھی آخرت والے لوگوں کے بجائے دنیا پرستوں كاٹولہ بناے گی

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسرارالعروج صفحہ 25

#117

عقائد اور ایمان کو درست کرنے کا طریقہ

۱۔ پہلی ضروری بات تو یہ ہے کہ ایمان و عقیدے کا ضروری علم سیکھا جائے، اسلامی عقائد و ایمانیات کو اچھی طرح ذہن نشین کیا جائے۔ ۲۔ کثرت سے ذکر و عبادات، اچھے اخلاق، نیک اعمال اور خیر کے کاموں کو اختیار کریں۔ ۳۔ برے کاموں اور گناہوں، بدنظری، بے حیائی، بخل، بے رحمی، ظلم و زیادتی، جھوٹ، خیانت، گالم گلوچ، برے اخلاق، تکبر اور حسد وغیرہ سے سخت پرہیز کریں۔ ۴۔ ایمان کی درستی اور پختگی کے لیے مومن اور پرہیزگار لوگوں کی صحبت کو اختیار کیا جائے اور غلط کاروں، جھوٹوں، خائنوں اور دیگر بری صحبتوں سے پرہیز کیا جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

#118

مجاہدہ کیاہے?

مجاہدہ، لذات، ما لوفات، مرغوبات اور نفسانی حرام خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات کے لیے چھوڑ دینے کا نام ہے۔ یعنی مرغوبات اور نفس کی خواہشات وغیرہ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی مرضیات کو اپنانا، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلنا، فرائض و واجبات و مستحبات پر چلنا اسی طرح جو چیزیں اللہ نے منع کی ہیں ان سے بچنا منع ہونا، اس کے لیے مشکلات کو اٹھانا اور جدو جہد کرنا، یہ ہے مجاہدہ

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس ،67

#119

مسلمانو ں کی موجودہ طرز زندگی

آج کل مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی حالت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ایمان اور اسلام کی وجہ سے جو معاشرہ بنتا ہےمسلمانوں کا معاشرہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک عام مسلمان مسلمان سے نہیں بلکہ دیندار مسلمان سے بیزار ہے مسلمان کا مسلمان سے اعتماد اٹھ گیا ہے اربوں کی تعداد میں مسلمان ہونے کے باوجود مسلمان ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اسلام اور آج کا مسلمان،ص6

#120

ذکر اللہ اپنا اثر چھوڑ ہی جاتا ہے

متعدد حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے جس حصہ پر اللہ کانام لیا جاتا ہے اس کا شعور و احساس اس حصہ زمین کو ہوتا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ " ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے پوچھتا ہے کہ کیا آج اللہ کا نام لینے والا کوئی بندہ تجھ پر سے گزرا؟ " جب وہ بتاتا ہے کہ ہاں گزرا تو وہ کہتا ہے کہ " تجھے بشارت ہو ، مبارک ہو " معلوم ہوتا ہے کہ جمدان پہاڑ پر سے گزرتے ہوئے رسول اللہ صلی علیہ وسلم پر یہ بات منکشف ہوئی کہ جو زیادہ ذکر کرنے والے بندے اور بندیاں ہیں انہوں نے قبول ورضا کے بڑے مقامات حاصل کر لیے اور وہ بہت آگے بڑھ گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی کہ "مفردون" یعنی بہت زیادہ ذکر کرنے والے سبقت لے گئے۔ "مفردون "کے لغوی معنی ہیں اپنے کو سب سے الگ اور اکیلا اور ہلکا پھلکا کر لینے والے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے قرب ورضا کی طلب میں اپنے کو اس دنیا کی الجھنوں سے ہلکا کر لیں، اور سب طرف سے کٹ کے اکیلے اللہ کے ہو جائیں، یہی مقام تفرید ہے اور یہی قرآن مجید کی خاص اصطلاح میں" تبتل" ہے وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا پس الذَّاكِرُونَ الله كَثِيرًا وَ الذَّكِرْتِ کے مصداق وہی بندے ہیں جن کا یہ حال ہو اور جنہوں نے ہر طرف سے کٹ کر اللہ جل جلالہ کو اپنا قبلہ و مقصود بنالیا ہو

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل ومسائل ص56/57

#121

ذکر اور فکر دونوں ضروری ہے!

دین اسلام میں جس طرح ذکر اور یاد الہی مطلوب ہے، اس طرح فکر یعنی کا ئنات میں غور و فکر بھی مطلوب ہے ، اگر ذکر ہو اور فکر نہ ہو تو ذکر صرف زبان کا ایک شغل بن کے رہ جائے گا اگر چہ صرف زبانی ذکر بھی فائدے سے خالی نہیں اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے، لیکن اس سے معرفت الہی کے دروازے نہیں کھلتے اور نہ آخرت کا کامل یقین اور آخرت کے دلی مشاہدہ کی طرف رہنمائی ہوتی ہے۔ یہ نعمتیں تو کثرت ذکر اور دھیان کے ساتھ ذکر اور کائنات میں غور و فکر ہی سے ملتی ہیں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضائل اور مسائل،ص41

#122

حقیقی مومن کی جستجو

انسان کا تعلق جب اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہونے لگتا ہے تو پھر اپنے رب کی طرف بڑھنے میں وہ جس چیز کو بھی رکاوٹ خیال کرے گا تو اس چیز سے وہ بچے گا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجلس صفحہ نمبر 87

#123

افراط و تفریط کا نقصان

جو چیز بھی اپنے حدود سے بڑھ جاتی ہے تو وہ بداخلاقی بن جاتی ہے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 35

#124

انسان کی عبادت فرشتوں کے عبادت سے افضل کیوں؟

کہ انسان کی اطاعت ، اس کی عبادت فرشتوں کی عبادت سے اس وجہ سے بھی افضل ہے کہ انسان کی عبادت غیب کے ساتھ ہے اور فرشتوں کی عالم آخرت کے مشاہدہ کے ساتھ

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ذکر اللہ کے فضئل ومسائل ص53

#125

بدگمانی کا علاج

(1) جب کسی پر بدگمانی ہونے لگے تو فورا خود سے کہیں کہ تو جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ دلیل تو ہے نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔ ( 2) جو لوگ اپنے عیوب سے بے خبر ہوتے ہیں وہ بدگمانی میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے اپنے عیوب پر نظر رکھیں۔ ( 3) اپنی یقینی خرابی کو دیکھیں اور دوسروں کی احتمالی خرابیوں کو نہ دیکھیں بلکہ دوسروں کی خوبیاں دیکھیں۔ (4) جس سے بدگمانی یا حسد ہو تو اس کی تعریف کریں، دل نہیں چاہے گا مگر آپ پھر بھی کریں۔ ان باتوں پر عمل کر لینے سے انشاءاللہ آپ اس مرض سے نجات پائیں گے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 129

#126

آزمائش کیوں آتی ہے؟

دنیا میں اللہ تعالٰی کی طرف سے آزمائش کے دو نتیجے برآمد ہوتے ہیں ایک اس شخص کو خود پتہ چل جاتا ہے کہ میں کتنا پانی میں ہواؤں دوسرا عوام کو بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سچا مومن ہے یا منافق

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

استقامت صفحہ 3

#127

باطنی بیماریوں کے علاج کا اسان طریقہ

باطنی بیماریوں کے علاج کا اسان اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ کسی روحانی طبیب اور کسی صادق تجربہ کار شیخ اور صوفی کی طرف رجوع کیا جائے، جس نے باقاعدہ کسی روحانی طبیب اور شیخ سے اپنی اصلاح کی کوشش کی ہو اور پھر انہوں نے اس پر اعتماد کیا ہو کہ وہ دوسروں کا علاج کر سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تصوف اور اخلاق کی کتابوں میں روحانی بیماریوں کبر، حسد، دنیا کی محبت وغیرہ کے علاج لکھے ہوتے ہیں لیکن ان کی مثال ہو بہو ایسی ہے جیسے کہ جسمانی طب کی کتابوں میں بیماریوں کے علاج لکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔یہ کتابیں ڈاکٹروں اور طبیبوں کے لیے تو مفید ہوتی ہیں لیکن اگر عوام ان سے استفادہ کرنا شروع کریں تو بیماریاں کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جائیں گی، کیونکہ عوام تو بیماریوں کو اور بیماریوں کے اسباب کو نہیں جانتے ۔ کتاب میں کسی بیماری کے اسباب کو پڑھنا اور چیز ہے اور جب مریض سامنے ہو تو اس کی بیماری کے اسباب معلوم کرنا بالکل دوسری چیز ہے ، اس لیے لوگ دوائیوں اور طب کی کتابوں سے اپنا علاج نہیں کرتے بلکہ ڈاکٹر اور طبیب کے سامنے بیٹھ کر اپنا علاج کراتے ہیں اور ڈاکٹر ان کی بیماری کا سبب معلوم کرتا ہے، پھر اس کے مطابق اس کے لیے علاج تجویز کرتا ہے۔۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتا ہے حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتا بلکہ اس کو بیماری کا وسوسہ ہوتا ہے، تو پھر وہ اس کے مطابق علاج تجویز کر کے اس کو مطمئن کر دیتا ہے۔ اسی طرح روحانی بیماریوں کا علاج معالجہ بھی ہے ، صرف کتابوں کے دیکھنے سے آدمی اپنی روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج نہیں کر سکتا ۔ بلکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی میں تکبر نہیں ہوتا اور نا ہی حسد، رہا وغیرہ ۔ لیکن اس کو صرف تکبر، حسد اور ریا وغیرہ کا وسوسہ لگ جاتا ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ حقیقی بیماری کے علاج اور بیماری کے وسوسے کے علاج میں بہت زیادہ فرق ہے۔ البتہ جن لوگوں کو اس شعبے سے کچھ مناسبت ہو ، وہ اس میں عملاً وقت لگا چکے ہوں اور کسی درجے میں روحانی طبیب بن چکے ہوں تو وہ ایسی کتابوں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ، اس کی وجہ سے وہ اس فن میں ترقی بھی کر سکتے ہیں اور علاج بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن عام لوگ جب خود ہی اپنا علاج شروع کر دیتے ہیں تو وہ بہت کم ہی کامیاب ہوتے ہیں ، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ شدید نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے میرا خیر خواہانہ مشورہ یہی ہے کہ روحانی بیماریوں کے خاتمے کے لیے کسی روحانی معالج کی طرف رجوع کیا جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول صفحہ نمبر 430

#128

اپنی زندگی کا جائزہ لیں

آج ایک کام کا عہد کریں کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ہم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی سنت پر عمل کر رہے ہیں اور کون سی سنت پر عمل نہیں کر رہے اور کون سی سنت ایسی ہے جس پر ہم فوراً عمل شروع کر سکتے ہیں اور کون سی سنت ایسی ہے جس میں تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے ؟ لہذا جو سنت ایسی ہے جس پر ہم فوراً عمل شروع کر سکتے ہیں وہ آج سے شروع کر دیں اور اس کا اہتمام کریں

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد دوم، صفحہ نمبر 392

#129

حقیقی آزادی

صحیح آزادی یہ ہے کہ انسان نفس کے غلامی سے آزاد ہو جائے

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

اصلاحی مجالس صفحہ نمبر 143

#130

تقویٰ کے اجزاء

۱۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی عظمت کا احساس ۲۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھنا ۳۔ اخلاص ۴۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا اور ان کی نافرمانی سے بچتے رہنا

حضرت مفتی سید مختار الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

ایمانی صفات جلد اول ص 138